Oct
01

Carry Loger Bill Approved

General, Articles       Share This    Trackback
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

کیری لوگر بِل ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور

امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان نے بھی بدھ کو پاکستان کو آئندہ پانچ برس میں ساڑھے سات ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد کی فراہمی کے لیے کیری لوگر بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔

اس بل کو امریکی سینیٹ نے گزشتہ ہفتے اس وقت منظور کرلیا تھا جب پاکستان کو امداد دینے والے ممالک ’فرینڈز آف پاکستان‘ کا نیویارک میں اجلاس ہوا تھا اور جس کی میزبانی مشترکہ طور پر صدر براک اوباما، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن اور پاکستانی صدر آصف زرداری نے کی تھی۔

کیری۔لوگر بل پر صدر اوباما کی جانب سے حتمی دستخط ہونے کے بعد پاکستان کو ہر برس سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امریکی امداد ملے گی۔لیکن اس بل کی منظوری سے قبل ہی پاکستان میں دائیں بازو کی جماعتوں، خاص طور پر مذہبی جماعتوں نے اس امداد کے ساتھ عائد شرائط کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔

اس بل کے تحت امریکی کانگریس نے انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت پر کڑی نظر رکھے اور امریکی وزیر خارجہ ہر چھ ماہ بعد اس بات کی تصدیق کریں کہ پاکستان القاعدہ اور شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے، شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے نہیں دے رہا، حکومتی عناصر، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو شدت پسندی کی پشت پناہی سے روک رہا ہے اور عدلیہ کے آزاد کردار میں کوئی مداخلت نہیں کر رہا۔

بل کے تحت وزیر خارجہ کو اس بات کی تصدیق بھی کرنا ہوگی کہ پاکستان شدت پسند گروپوں لشکر طیبہ اور جیش محمد وغیرہ کے مبینہ تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے مستقل اقدامات جاری رکھ رہا ہے۔کیری۔لوگر ایک تفیصلی بل ہے جس کے متعدد نکات میں کہا گیا ہے کہ غیر فوجی امداد کی یہ رقم ترقی، تعلیم اور تونائی کے شعبوں میں ہی خرچ ہونی چاہیے اور اس کا اہم مقصد پاکستان میں جمہوری اقدار اور اداروں کا فروغ ہوگا۔ بل کے تحت اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے یا حکومت پر قبضہ کرے تو یہ امداد معطل کی جاسکے۔

ایک شق یہ بھی ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کو یقینی بنائے گا اور ایٹمی سائنسدان اے کیو خان کے مبینہ نیٹ ورک کو سرگرمیوں سے باز رکھے گا۔اس سلسلے میں پہلے بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ پاکستان امریکہ کو مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت دیگا لیکن پاکستان کی جانب سے متعدد شرائط پر اعتراضات کے بعد اب یہ کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کی تفتیش میں پاکستان معاونت کرے گا اور خفیہ معلومات امریکہ کے ساتھ شئر کرے گا۔

ترقی، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں ملنے والی اس امداد کی تقسیم کے حوالے سے بھی پاکستان اور امریکہ کی حکومتوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ تمام امداد پاکستانی حکومت کے حوالے کرنے کے بجائے کچھ رقم غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے جبکہ کچھ رقم ترقیاتی منصوبوں کے لیے براہ راست مختص کی جائے جبکہ پاکستان کا اصرار ہے کہ امداد پاکستانی حکومت کے ذریعے ہی استعمال ہو۔چند ہفتے قبل امریکی اقتصادی ماہرین کی ایک ٹیم نے بھی پاکستان کا دورہ کیا جو یہ سفارشات مرتب کرے گی کہ یہ رقم کس طرح اور کن منصوبوں پر خرچ ہو۔

اس مہینے کے آخر میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں اور خیال ہے کہ وہ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے سلسلے میں بعض منصوبوں کا اعلان کریں گی۔پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی نے کیری۔لوگر بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ طویل مدتی تعاون کا ایک اور ثبوت ہے۔حسین حقانی کے مطابق امریکی کانگریس نے پاکستان پر کوئی شرائط عائد نہیں کیں بلکہ اپنی حکومت پر بعض شرائط عائد کی ہیں۔

 

No Comments

Make A Comment

No comments yet.

Comments RSS Feed   TrackBack URL

Leave a comment

top
Close
E-mail It